مرادآباد،20؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش میں لو جہاد کے نام پر جاری کئے گئے سخت ترین تبدیلی ٔ مذہب آرڈیننس کے جارحانہ نفاذ اورمسلم نوجوانوں کی جبری نیز غیر ضروری گرفتاریوں کی قلعی اب عدالتوں میں کھلنے لگی ہے۔ مظفر نگر میں لوجہاد کے نام پر کیس میں ماخوذ کئے گئے ایک نوجوان کی گرفتاری پر الہ آباد ہائی کورٹ کی روک کے دوسرے ہی دن سنیچر کو مراد آباد کی عدالت نے اُن 2؍ نوجوانوںکو رہا کرنے کا حکم سنایا ہے جنہیں اسی ماہ کے اوائل میں گرفتار کیاگیاتھا۔
15 دن کی بے جا حراست کے بعد رہائی: 28 سالہ رجسٹریشن کیلئے اپنے بھائی کے ساتھ مراد آباد میں رجسٹرار کے دفتر پہنچا تو بجرنگ دل کے غنڈوں نے ا ن پر حملہ کردیا۔ رشید پر نام نہاد لوجہاد کا الزام عائد کیا گیا، دھکا مکی کی گئی اور پولیس کو بلا لیاگیا جس نے کسی تحقیق یا ہلکی سی داشمندی کا مظاہرہ کئے بغیر رشید اور اس کے بھائی سلیم کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور لڑکی پنکی کو شیلٹر ہوم منتقل کردیا۔ پولیس کے حوالے کرنے سے قبل تینوں کے ساتھ بجرنگ دل کے غنڈوں کے ذریعہ زیادتی کا ویڈیو بھی سامنے آیا مگر پولیس نے ان کے خلاف کسی کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔
ویڈیو میں بجرنگ دل کے غنڈے پنکی کے ساتھ بھی دھکا مکی کرتے اور یہ پوچھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کیا اُس نے تبدیلیٔ مذہب کیلئے مجسٹریٹ کو نوٹس دیاتھا۔ اہم بات یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو 60؍ دن پہلے نوٹس دینے کی شرط نئے آرڈیننس میں شامل کی گئی ہے جبکہ پنکی اور رشید کی شادی اس سے کئی ماہ قبل ہوگئی تھی۔
کوئی ثبوت نہ ہونے کا عدالت میں اعتراف: رشید اور سلیم کو گرفتار کرکے 15؍ دنوں تک جیل میں رکھنے کے بعد سنیچر کو کورٹ میں پولیس نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس دونوں بھائیوں کے خلاف پنکی کو تبدیلی ٔ مذہب پر مجبور کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کی بنیاد پر کورٹ نے دونوں نوجوانوں کو رہا کرنے کا حکم سنایا ہے۔سنیچر کو ہی انہیں رہا کردیاگیا۔ پنکی کو پہلے ہی شیلٹر ہوم سے رہا کیا جاچکاہے۔ واضح رہے کہ پنکی کے اس بیان کے بعد کہ رشید نے اس پر تبدیلیٔ مذہب کیلئے دباؤ نہیں ڈالا ہے اور اس کے والدین کی جانب سے بھی کوئی شکایت نہ ہونے کی وجہ سے پولیس رشید اور سلیم کو مزید جیل میں نہیں رکھ سکتی تھی۔ بہرحال یہ سوال قائم ہے کہ گرفتاری سے قبل ہی پولیس نے اس جانب توجہ کیوں نہیں دی اور 15؍ دن تک بے قصور نوجوانوں کو جیل میں کیوں رکھا گیا۔
’ میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیوں گرفتار ہوا‘: سنیچر کو مراد آباد جیل سے باہر آتےہی رشید کی نگاہیں کسی شناسا کو تلاش کررہی تھیں اور جیسے ہی اسے اس کا دوست ذوالفقار نظر آیا وہ اس کی طرف یہ پوچھتے ہوئے دوڑا کہ ’’پنکی کیسی ہے، میری اس سے بات کراؤ؟‘‘ مگر اس سے پہلے کہ ذوالفقار کچھ کہتا، وہاں موجود پولیس اہلکار نے رشید کو ڈانٹا کہ ’’یہیں کھڑے رہو، داروغہ صاحب تمہاری تفصیلات لیںگےاس کے بعد تمہیں جانے اور کسی سے بھی بات کرنے کی آزادی ہوگی۔‘‘رہا ہوتے ہی رشید کو میڈیا کے نمائندوں نے گھیر لیا اور سوال کیا کہ ’’کیا تم جانتے ہوکہ تمہارا بچہ ضائع ہوگیاہے؟‘‘ رشید نے حیرت سے ذوالفقار کی طرف تصدیق طلب نگاہوں سے دیکھا اور پھر جواب دیا کہ ’’مجھے کیسے معلوم ہوسکتاہے؟ میں تو یہ بھی نہیں سمجھ پارہا کہ مجھے کیوں گرفتار کیاگیاتھا؟ ‘‘
حمل ضائع کرنے کاالزام: اس بیچ رشید کی والدہ نے الزام لگایا ہے کہ شیلٹر ہوم میں ان کی بہو کو انجکشن دے کر اس کا 3؍ ماہ کا حمل ضائع کردیاگیاہے۔ اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ شیلٹر ہوم میں قیام کے دوران پنکی کو ۱۱؍ اور ۱۳؍ دسمبر کو اسپتال منتقل کیا گیاتھا۔ اہم بات یہ ہے کہ شیلٹر ہوم سے رہائی کے وقت اس کے علاج کی فائل یہ کہتے ہوئے اسے نہیں سونپی گئی کہ یہ ’’میڈیکو لیگل‘‘ کیس ہے۔ حکومت نے حالانکہ اس بات کی تردید کی ہے کہ شیلٹر ہوم میں پنکی کا حمل ضائع ہوا ہے مگر رہائی کے بعد نجی اسپتال میں کرائے گئے الٹرا سونوگرافی سے اسقاط حمل کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری سطح پر اب خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔